Wednesday, 4 January 2017

بکھرتی جاتی ہے خوشبو ہوا کے رستے میں

بِکھرتی جاتی ہے خوشبو ہوا کے رستے میں
کہ آ گیا ہے کہیں تُو ہوا کے رستے میں
تِرا خرام، تِری نیند سے بھری آنکھیں 
جگائے جاتی ہیں جادو ہوا کے رستے میں
تِری خبر، تِری خوشبو سے ہم کناری کو
کھلے رہے مِرے بازو ہوا کے رستے میں
کوئی فسردگی طاری ہے موسمِ گل پر
کھلے کھلے کوئی گیسو ہوا کے رستے میں
بجھے چراغ تو بجھنےلگا تھا دل خاورؔ 
سو میں نے رکھ دیئے جگنو ہوا کے رستے میں

خاور احمد

No comments:

Post a Comment