اندھیرے میں بھی وہ سِیمیں بدن ایسا دمکتا تھا
میں اس کی روشنی میں ساری دنیا دیکھ سکتا تھا
میں اس تصویر کو تکتے ہوئے تصویر بن جاتا
میری پلکیں جھپکتی تھیں نہ میرا دل دھڑکتا تھا
جہاں وہ پاؤں رکھتا تھا وہاں پر پھول کھل جاتے
کہاں دنیا سے چھپ سکتی تھی آمد موسمِ گل کی
وہ آتا ایک دن تو گھر مہینوں تک مہکتا تھا
اسے کیا ڈھونڈتا خاوؔر مگر جب تیرگی بڑھتی
فلک پر وہ ستارہ خود کہیں سے آ چمکتا تھا
خاور احمد
No comments:
Post a Comment