Thursday, 5 January 2017

حوصلہ ڈوبتے موسم کا بڑھا دیتا ہے

حوصلہ ڈوبتے موسم کا بڑھا دیتا ہے
پھول شاخوں پہ وہ بر وقت کھلا دیتا ہے
ایک منزل ہے کہ سورج سے بھی کھو جاتی ہے
ایک رستہ ہے کہ جگنو بھی دکھا دیتا ہے
درد سینے میں جو دم لے تو غنیمت، ورنہ
یہ وہ شعلہ ہے جسے حبس ہوا دیتا ہے
وہ جو سورج کو ابھرنے نہیں دیتا شب بھر
صبح ہوتے ہی وہ مہتاب بجھا دیتا ہے
وسعتِ دشت بتا، کون مرے رستے میں
روز دیوار بگولوں کی اٹھا دیتا ہے
گنبدِ شب میں لرزتی ہے مری تنہائی
جب بھی رہرو کوئی اپنوں کو صدا دیتا ہے
جس کو طوفاں سے الجھنے کی ہو عادت محسؔن
ایسی کشتی کو سمندر بھی دعا دیتا ہے

محسن نقوی

No comments:

Post a Comment