ظلم آئین کا عنوان ہُوا چاہتا ہے
عدل بے چارہ پشیمان ہوا چاہتا ہے
عدل و انصاف جنہیں چاہیۓ ہجرت کر لیں
حاکمِ شہر مسلمان ہوا چاہتا ہے
صدقہ خیرات بٹیں گے سرِ بازار یہاں
خلقتِ شہر پہ احسان ہوا چاہتا ہے
شعر و نغمہ و تماثیل پہ پابندی کا
مسندِ عدل سے اعلان ہوا چاہتا ہے
یا خدا! خیر کہ پھر قافلۂ شبیری
کوفہ و شام کا مہمان ہوا چاہتا ہے
جو بھی لکھے گا یہاں حرف بغاوت عباس
دیس اس کے لیے زندان ہوا چاہتا ہے
عباس برمانی
No comments:
Post a Comment