Tuesday, 14 July 2020

کوفہ و شام کا مہمان ہوا چاہتا ہے

 ظلم آئین کا عنوان ہُوا چاہتا ہے

عدل بے چارہ پشیمان ہوا چاہتا ہے

عدل و انصاف جنہیں چاہیۓ ہجرت کر لیں

حاکمِ شہر مسلمان ہوا چاہتا ہے

صدقہ خیرات بٹیں گے سرِ بازار یہاں

خلقتِ شہر پہ احسان ہوا چاہتا ہے

شعر و نغمہ و تماثیل پہ پابندی کا

مسندِ عدل سے اعلان ہوا چاہتا ہے

یا خدا! خیر کہ پھر قافلۂ شبیری

کوفہ و شام کا مہمان ہوا چاہتا ہے

جو بھی لکھے گا یہاں حرف بغاوت عباس

دیس اس کے لیے زندان ہوا چاہتا ہے


عباس برمانی

No comments:

Post a Comment