Sunday, 12 July 2020

منہ پھیر کر وہ کہتے ہیں بس مان جائیے

منہ پھیر کر وہ کہتے ہیں بس مان جائیے
اس شرم اس "لحاظ" کے قربان جائیے
بھولے نہیں ہیں ہم وہ مدارات رات کی
جی چاہتا ہے پھر کہیں "مہمان" جائیے
بولے وہ مسکرا کے بہت التجا کے بعد
جی تو یہ چاہتا ہے تِری "مان" جائیے
آگے ہے گھر رقیب کا بس ساتھ ہو چکا
اب آپ کا خدا ہے "نگہبان" جائیے
الفت جتا کے دوست کو دشمن بنا لیا
بیخود تمہاری عقل کے قربان جائیے

بیخود دہلوی

No comments:

Post a Comment