دل مجھ سے تِرا ہائے ستمگر نہیں ملتا
مر جاؤں گلا کاٹ کے، خنجر نہیں ملتا
دو دن بھی کسی سے وہ برابر نہیں ملتا
یہ اور قیامت ہے کہ مِل کر نہیں ملتا
یا ترک ِملاقات کی خُو ہوگی ان کو
اے کاش ہم اب ٹھوکریں کھا کر ہی سنبھلتے
سر ملتا ہیں اس کوچے میں، پتھر نہیں ملتا
زاہد نے اڑائے تو صفاتِ ملکوتی
حضرت کا فرشتوں سے ابھی پَر نہیں ملتا
انکار سے امید ہے، اقرار سے یاس
جب وعدہ کیا پھر وہ مقرر نہیں ملتا
کیا پوچھتے ہو بزم میں کیا ڈھونڈ رہے ہو
لو صاف بتا دوں، دلِ مضطر نہیں ملتا
تصویر تو پیدا ہے، مصور نہیں پیدا
آئینہ تو ملتا ہے، سکندر نہیں ملتا
ہر آبلے میں خار ہے، ہر زخم میں پیکاں
ملنے سے مِری جاں کوئی کیوں کر نہیں ملتا
کیوں کر نہ مریں موت پہ بیمارِ محبت
ایسا یہ مزا ہے کہ مکرر نہیں ملتا
کیا عید کا دن بھی رمضان ہے کہ جو ساقی
مجھ کو نہیں ملتا کوئی ساغر نہیں ملتا
محفل میں تری عید کے دن میرے گلے سے
وہ کون سا فتنہ ہے جو اٹھ کر نہیں ملتا
پروانے کا بھی وقت ہے، بلبل کا بھی موسم
مرتا ہوں جو معشوق گھڑی بھر نہیں ملتا
یارب! مِرے اشکوں سے نہ تاثیر جدا ہو
اس قافلے سے کوئی بچھڑ کر نہیں ملتا
اس سے ہی کوئی وصل کی صورت نکل آتی
عکس آپ کا آئینے سے باہر نہیں ملتا
ہر وقت پڑھے جاتے ہو کیوں داغ کے اشعار
کیا تم کو کوئی اور سخن ور نہیں ملتا؟
داغ دہلوی
No comments:
Post a Comment