Thursday, 23 July 2020

صاف کب امتحان لیتے ہیں

صاف کب امتحان لیتے ہیں
وہ تو دم دے کے جان لیتے ہیں
یوں ہے منظور خانہ ویرانی
مول میرا مکان لیتے ہیں
تم تغافل کرو رقیبوں سے
جاننے والے جان لیتے ہیں
پھر نہ آنا اگر کوئی بھیجے
نامہ بر سے زبان لیتے ہیں
اب بھی گر پڑ کے نالے
ساتواں آسمان لیتے ہیں
تیرے خنجر سے بھی تو اے قاتل
نوک کی 'نو' جوان لیتے ہیں
اپنے بسمل کا سر ہے زانو پر
کس محبت سے جان لیتے ہیں
یہ سنا ہے مِرے لیے تلوار
اک مِرے مہربان لیتے ہیں
'یہ نہ کہہ ہم سے 'تیرے منہ میں خاک
اس میں تیری زبان لیتے ہیں
وہ جھگڑتے ہیں جب رقیبوں سے
بیچ میں مجھ کو سان لیتے ہیں
ضد ہر اک بات پر نہیں اچھی
دوست کی دوست مان لیتے ہیں
مستعد ہو کر یہ کہو تو سہی
آئیے! امتحان لیتے ہیں
داغ بھی ہے عجیب سحر بیاں
بات جس کی وہ مان لیتے ہیں​

داغ دہلوی

No comments:

Post a Comment