وقت آفاق کے جنگل کا جواں چیتا ہے
مِرے شہروں کے غزالوں کا لہو پیتا ہے
عشق نے مر کے سوئمبر میں اسے جیتا ہے
دل سِری رام ہے، راون کی رضا سیتا ہے
اب بھی گھنشیام ہے اس دشت کا بوٹا بوٹا
جگماتی رہی اشکوں سے شبِ تار حیات
دِیپ" مالا کی طرح دورِ "الم" بیتا ہے"
کوئی "لہکا" جو سرِ دار تو یزداں نے کہا
ابنِ آدمؑ نے مہ و سال کا "رَن" جیتا ہے
تجھے سجدوں کے عوض مل نہ سکی روح بشر
ہم نے سر دے کے خدائی کا بھرم جیتا ہے
شیر افضل جعفری
No comments:
Post a Comment