Thursday, 23 July 2020

ہم نے سر دے کے خدائی کا بھرم جیتا ہے

وقت آفاق کے جنگل کا جواں چیتا ہے
مِرے شہروں کے غزالوں کا لہو پیتا ہے
عشق نے مر کے سوئمبر میں اسے جیتا ہے
دل سِری رام ہے، راون کی رضا سیتا ہے
اب بھی گھنشیام ہے اس دشت کا بوٹا بوٹا
برگِ نَے آج بھی انساں کے لیے گیتا ہے
جگماتی رہی اشکوں سے شبِ تار حیات
دِیپ" مالا کی طرح دورِ "الم" بیتا ہے"
کوئی "لہکا" جو سرِ دار تو یزداں نے کہا
ابنِ آدمؑ نے مہ و سال کا "رَن" جیتا ہے
تجھے سجدوں کے عوض مل نہ سکی روح بشر
ہم نے سر دے کے خدائی کا بھرم جیتا ہے

شیر افضل جعفری

No comments:

Post a Comment