Thursday, 23 July 2020

وہ منتظر ہیں ہمارے تو ہم کسی کے ہیں

وہ منتظر ہیں ہمارے تو ہم کسی کے ہیں
علامتوں میں یہ آثار خودکشی کے ہیں
پسِ مراد بہت خواب ہیں نگاہوں میں
سمندروں میں جزیرے یہ روشنی کے ہیں
میں اپنے آپ کو دشمن کے صرف میں دے دوں
یہ مشورے تو مِری جان! واپسی کے ہیں
ہجومِ عکس ہے اور آئینہ صفت ہوں میں
سو میرے جتنے بھی دُکھ ہیں وہ آگہی کے ہیں
کسی قبا کو میسر ہے فاخرہ ہونا
کسی لباس میں پیوند مفلسی کے ہیں
میں اس سے دُکھ کے بھی اس کو دعائیں دیتی ہوں
عجیب رنگ محبت میں دشمنی کے ہیں
میں جب بھی چاہوں جبھی اس سے گفتگو کر لوں
مِری غزل پہ یہ احسان شاعری کے ہیں
جو شہرِ سنگ میں شیشہ مزاج ہیں روحی
وہ ذمے دار خود اپنی شکستگی کے ہیں

ریحانہ روحی

No comments:

Post a Comment