پہلے تمہیں میں آگ لگانی سکھاؤں گا
پھر اس کے بعد ایک کہانی سناؤں گا
لکھوں گا ایک نام میں ساحل کی ریت پر
موجوں کی پھر میں موج منانی دکھاؤں گا
مدت کے بعد اس کی گلی سے گزر ہوا
ورنہ تِرا 'جمال' مِرے 'کام' کا نہیں
دنیا کو بس ہے آگ لگانی، لگاؤں گا
اچھے سے سیکھ جاؤ 'قوافی' سے کھیلنا
پھر میں تمہیں ردِیف نبھانی سکھاؤں گا
اطیب جاذل
No comments:
Post a Comment