دیوار دیکھتا ہے، دیا دیکھتا ہے دوست
یہ اتنے انہماک سے کیا دیکھتا ہے دوست
نظریں کچھ اور بھی ہیں اسی شغل میں شریک
ایسا نہیں کہ صرف "خدا" دیکھتا ہے دوست
اپنی کہیں "خبر" تو نہیں ہو گئی تجھے؟
دشت وجود ہے، سو جہاں مرضی گھوم پھر
یاں کون تجھ کو تیرے سوا دیکھتا ہے دوست
خود اپنا دیکھنا ہی مجھے کم کٹھن تھا کیا
اس پر یہ آئینہ بھی جدا دیکھتا ہے دوست
میرے تئیں یہ نقص ہے، خوبی نہیں جو تُو
دنیا کو اہلِ دل سے ورأ دیکھتا ہے دوست
سچ سچ بتا کہ اب سے برس دو برس کے بعد
خود کو تُو کس کے پاؤں پڑا دیکھتا ہے دوست
پانی تجھے حبیب ہے،۔ مٹی تجھے رفیق
تُو کون ہے؟ جو اتنا نیا دیکھتا ہے دوست
چاہوں اسے، کہ جس کو مِرا چاہتا ہے یار
دیکھوں اسے کہ جس کو مِرا دیکھتا ہے دوست
سات آسمان گریہ کناں ہیں،۔ زمین شق
یہ کون ہو رہا ہے جدا؟ دیکھتا ہے دوست
میں تیرے دیکھنے پہ کروں شک، مجال کیا
تُو جو بھی دیکھتا ہے بجا دیکھتا ہے دوست
دل کیوں نہ مطمئن ہو کہ ہے جو ترا مرید
ہر حال میں یہ تیری رضا دیکھتا ہے دوست
مرتد ہی جان، جو کہ پھرے رُوئے یار سے
کافر ہے جو کہے کہ برا دیکھتا ہے دوست
لا وارثا نہیں ہوں، کوئی سر پہ ہے مِرے
دھمکی نہ دے فقیر کو، جا! دیکھتا ہے دوست
غالب جو دیکھتا ہے ادائے سخن مِری
آخر کو دوست ہی کی ادا دیکھتا ہے دوست
اب اور کیا سخن ہو در ایں باب یا علی
القصہ مختصر کہ بلا دیکھتا ہے دوست
علی زریون
No comments:
Post a Comment