فجر کا نم بہا کے جی، بارِ عشاء اٹھا کے چل
یہ ہے زمینِ عشقیہ، ایسے نہ لڑکھڑا کے چل
گریۂ گمشدہ کو ڈھونڈ، مجلسِ اولیاء کو ڈھونڈ
تجھ پہ نظر پڑے کوئی، چہرہ نہ یوں چھپا کے چل
خالی نہیں ہوا ہے تُو، کیسے بھروں تِرا سبو؟
پیڑوں کا احترام کر، پھولوں کو بھی سلام کر
رستے کو ہمسفر سمجھ، پہلو نہ یوں بچا کے چل
اپنا ہے مے کدہ تِرا، وجد تِرا،۔ نشہ تِرا
چاہے تو رقص کر یہاں، چاہے تو مسکرا کے چل
ناموں میں نام ہے تِرا،۔ عمدہ کلام ہے تِرا
سب کی نظر تجھی پہ ہے، دل کو دِیا بنا کے چل
مستی میں مست ہوں تو ہوں، رازِ الست کیوں کہوں
اے مِری مستئ جنوں، اپنا کہا نبھا کے چل
یار کی راہ میں ہے تُو، دل کی پناہ میں ہے تُو
اب تو نہ بے دلی دکھا، اب تو نہ منہ بنا کے چل
نوشہ تو ہوں نہیں جو یوں، بوسے کو پوچھتا پھروں
ہاتھوں میں ہاتھ دے ادھر، یعنی گلے لگا کے چل
نعرۂ 'لا تخف' کو سن، بجنے دے عشق کی یہ دُھن
جلنے دے حاسدوں کے دل، تازہ غزل سنا کے چل
تجھ پہ عطائے یار ہے،۔ نامِ علی بہار ہے
بچھڑے ہوؤں کو پاس لا، روٹھے ہوئے منا کے چل
علی زریون
No comments:
Post a Comment