Friday, 17 July 2020

آنکھوں میں روپ صبح کی پہلی کرن سا ہے

آنکھوں میں روپ صبح کی پہلی کرن سا ہے
احوال جی کا زلف شکن در شکن سا ہے
کچھ یادگار اپنی مگر چھوڑ کر گئیں
جاتی رتوں کا حال دلوں کی لگن سا ہے
آنکھیں برس گئیں تو نکھار اور آ گیا
یادوں کا رنگ بھی تو گل و یاسمن سا ہے
کس موڑ پر ہیں آج ہم اے رہگزار ناز
اب درد کا مزاج کسی ہم سخن سا ہے
ہے اب بھی رنگ رنگ تمنا کا پیرہن
خوابوں کے ساتھ اب بھی وہی حسنِ ظن سا ہے
کن منزلوں لٹے ہیں محبت کے قافلے
انساں زمیں پہ آج غریب الوطن سا ہے
وہ جس کا ساتھ چھوڑ چکا نازِ آگہی
اب بھی تلاش رہ میں وہی راہزن سا ہے
شاخوں کا رنگ روپ خزاں لے گئی مگر
انداز آج بھی وہی اربابِ فن سا ہے
خوشبو کے تھامنے کو بڑھائے ہیں ہاتھ ادا
دامان آرزو بھی صبا پیرہن سا ہے

ادا جعفری 

No comments:

Post a Comment