خلشِ تیرِ بے پناہ گئی
لیجئے ان سے رسم و راہ گئی
آپ ہی مرکزِ نگاہ رہے
جانے کو چار سو نگاہ گئی
سامنے بے نقاب بیٹھے ہیں
اس نے نظریں اٹھا کے دیکھ لیا
عشق کی جرأتِ نگاہ گئی
انتہائے جنوں مبارک باد
پرسشِ حالِ گاہ گاہ گئی
مر مٹے جلد باز پروانے
اپنی سی شمع تو نباہ گئی
دل میں عزمِ حرم سہی لیکن
ان کے کوچہ کو گر یہ راہ گئی
ادا جعفری
No comments:
Post a Comment