مذہبی چنگاریوں سے بستیاں جل جائیں گی
ان چراغوں سے نہ الجھو انگلیاں جل جائیں گی
آگ گلشن میں لگا دی، اور سوچا بھی نہیں
ان گُلوں کے ساتھ کتنی تتلیاں جل جائیں گی
نفرتوں کی آندھیاں یوں ہی اگر چلتی رہیں
آسمانوں کو جلا کر ایک دن پچھتاؤ گے
جل اٹھا ساون تو ساری بدلیاں جل جائیں گی
کوئی شور و غل نہ سناٹوں کا پھر ہو گا وجود
ساتھ ہی آواز کے خاموشیاں جل جائیں گی
یوں ہی گر تنہائیوں کے دائرے بڑھتے گئے
آدمی رہ جائے گا،۔ پرچھائیاں رہ جائیں گی
پھر "محبت" کے "الاؤ" کو نفسؔ روشن کرو
دھیمی دھیمی آنچ میں سب تلخیاں جل جائیں گی
نفس انبالوی
No comments:
Post a Comment