Friday, 17 July 2020

نہ جانے کب کی دبی تلخیاں نکل آئیں

نہ جانے کب کی دبی تلخیاں نکل آئیں
ذرا سی بات تھی اور برچھیاں نکل آئیں
ہوا یہ ہم پہ اندھیروں کی سازشوں کا اثر
ہمارے ذہن میں بھی کھڑکیاں نکل آئیں
مجھے نواز دی مولیٰ نے پھول سی بیٹی
مِرے حساب میں کچھ نیکیاں نکل آئیں
وہ پیڑ جس پہ قضا بن کے بجلیاں ٹوٹیں
سنا ہے اس پہ "ہری پتیاں" نکل آئیں
بدلتی رُت میں یہ کم ظرفیوں کا عالم ہے
بِلوں سے پنکھ لیے چیونٹیاں نکل آئیں
یہ معجزہ ہی تو ہے اے نفس کہ طوفاں میں
سمندروں سے سبھی کشتیاں نکل آئیں

نفس انبالوی

No comments:

Post a Comment