نہ جانے کب کی دبی تلخیاں نکل آئیں
ذرا سی بات تھی اور برچھیاں نکل آئیں
ہوا یہ ہم پہ اندھیروں کی سازشوں کا اثر
ہمارے ذہن میں بھی کھڑکیاں نکل آئیں
مجھے نواز دی مولیٰ نے پھول سی بیٹی
وہ پیڑ جس پہ قضا بن کے بجلیاں ٹوٹیں
سنا ہے اس پہ "ہری پتیاں" نکل آئیں
بدلتی رُت میں یہ کم ظرفیوں کا عالم ہے
بِلوں سے پنکھ لیے چیونٹیاں نکل آئیں
یہ معجزہ ہی تو ہے اے نفس کہ طوفاں میں
سمندروں سے سبھی کشتیاں نکل آئیں
نفس انبالوی
No comments:
Post a Comment