اب ہجر کے خیال سے ڈرتے نہیں ہیں ہم
جاناں تِرے بغیر بھی مرتے نہیں ہیں ہم
سکھلا دیا ہے ضبط محبت نے اس قدر
اب ٹوٹتے بھی ہیں تو بکھرتے نہیں ہیں ہم
جب سے ہمارے پاس سے رخصت ہوا ہے وہ
تب سے قسم خدا کی سنورتے نہیں ہیں ہم
تیرے میرے مزاج میں اتنا ہے فرق بس
وعدہ اگر کریں تو مُکرتے نہیں ہیں ہم
روبینہ شاد
(بصارت سے محروم باہمت شاعرہ کی بصیرت آمیز شاعری)
No comments:
Post a Comment