کوئی ظاہر کوئی چھپا چہرہ
میرا چہرہ کہ ہو تِرا چہرہ
جب بناتا ہوں میں کوئی چہرہ
اوڑھ لیتا ہوں اک نیا چہرہ
شاخ سے ٹوٹ کر گرا پتہ
کیا رہیں یاد اُس کے نقش و نگار
وہ ہے پارہ صفت، ہوا چہرہ
کھو دئیے اپنے خال و خد میں نے
ڈھونڈتا ہوں جگہ جگہ چہرہ
میں ہوں سادہ کتاب کی مانند
لفظ آساں، ورق کھلا چہرہ
حال دل کا نہ چھپ سکا خسرو
آئینہ بن گیا مِرا چہرہ
فیروز ناطق خسرو
No comments:
Post a Comment