Thursday, 23 July 2020

کوئی ظاہر کوئی چھپا چہرہ

کوئی ظاہر کوئی چھپا چہرہ
میرا چہرہ کہ ہو تِرا چہرہ
جب بناتا ہوں میں کوئی چہرہ
اوڑھ لیتا ہوں اک نیا چہرہ
شاخ سے ٹوٹ کر گرا پتہ
ہو گیا زرد پھول کا چہرہ
کیا رہیں یاد اُس کے نقش و نگار
وہ ہے پارہ صفت، ہوا چہرہ
کھو دئیے اپنے خال و خد میں نے
ڈھونڈتا ہوں جگہ جگہ چہرہ
میں ہوں سادہ کتاب کی مانند
لفظ آساں، ورق کھلا چہرہ
حال دل کا نہ چھپ سکا خسرو
آئینہ بن گیا مِرا چہرہ

فیروز ناطق خسرو

No comments:

Post a Comment