Thursday, 23 July 2020

خواہشیں

خواہشیں

جسم کا پیڑ بھی اندھا
اس کی شاخیں بھی اندھی ہیں
تیز ہوائیں جب چلتی ہیں
سارے پتے
ایک اک کر کے گر جاتے ہیں
شاخیں بازو پھیلا کر
اندھوں کی مانند
ہوا کا جسم ٹٹول کے رہ جاتی ہیں

فیروز ناطق خسرو

No comments:

Post a Comment