Tuesday, 14 July 2020

اس ابتدا کی سلیقے سے انتہا کرتے

اس ابتداء کی سلیقے سے انتہا کرتے
وہ ایک بار ملے تھے تو پھر ملا کرتے
کواڑ گرچہ مقفل تھے اس حویلی کے
فقیر پھر بھی گزرتے رہے صدا کرتے
ہمیں قرینۂ رنجش کہاں میسر ہے؟
ہم اپنے بس میں جو ہوتے تِرا گِلہ کرتے
تِری جفا کا فلک سے نہ "تذکرہ" چھیڑا
ہنر کی بات کسی کم ہنر سے کیا کرتے
تجھے نہیں ہے ابھی فرصتِ کرم، نہ سہی
تھکے نہیں ہیں مِرے ہاتھ بھی دعا کرتے
چِقیں گری تھیں دریچوں پہ چار سُو انور
نظر "جھکا" کے نہ چلتے تو اور کیا کرتے

انور مسعود

No comments:

Post a Comment