سیلابِ ماہ و سال کی کوشش فضول ہے
رخسارِِ کائنات پہ صدیوں کی دھول ہے
دامن جو کھینچتا ہے دمِ رخصتِ چمن
گُلچیں! مِری نظر میں وہ کانٹا بھی پھول ہے
ہر چیز کی حدود مقرر ہیں دہر میں
اے پیکرِ جمال! مِرے دل سے بھی گزر
کہتے ہیں کہکشاں تِرے قدموں کی دھول ہے
تجھ سے نہ اٹھ سکے گا تمنا کا بارِِ غم
یہ بار میں اٹھاؤں گا تُو کیوں ملول ہے
ترکِ تعلقات،۔ بحالِ تعلقات
وہ ہے تِرا اصول، یہ میرا اصول ہے
دل کو ذرا سنبھال کے رکھو میاں ایاز
تنخواہِ زندگی کا یہ قبض الوصول ہے
ایاز صدیقی
No comments:
Post a Comment