Tuesday, 17 November 2020

کبھی خوشبو کے شہرے میں کبھی رنگوں کی صورت میں

 گیت


کبھی خوشبو کے شہرے میں

کبھی رنگوں کی صورت میں

کہیں پر مثلِ دردِ راہ بن کر مڑ رہے ہیں ہم

کبھی اِس پار، کبھی اُس پار


ہتھیلی پر سفر کی ان گنت اندھی لکیریں تھیں

سروں پر دھوپ تھی اور پاؤں تھے جلتی زمینوں پر

ہمیں چلنا تھا سو چلتے رہے، چلتے رہے ہر پل

کبھی اِس پار، کبھی اُس پار


کسی موسم کے ماتھے پر نہیں لکھا گیا ہم کو

مگر اک آس کی خوشبو ہمارے ساتھ تھی ہر دم

کوئی تھا منتظر اپنا، کسی کے منتظر تھے ہم

کبھی اِس پار، کبھی اُس پار


جنید آزر

No comments:

Post a Comment