ایسا ہو کہ ٹھہروں تیری پائل کی چھنک میں
سنتا رہوں تیرے لہجے کی کھنک میں
گل رنگ کنول، پھول، شفق، چاند، گھٹا تُو
شب رنگ تیری زلف، لگن، ابر، دھنک میں
اک رنگ، کئی رنگ، بہر رنگ عیاں تُو
اک جوگ، کئی روگ، غزل، تال، کتھک میں
اے عشق، ارے عشق! ادھر دیکھ، یہ سر دیکھ
اے آگ، اری آگ! تیری چاہوں لپک میں
کیا عرض کروں دل سے ہی مجبور ہوں سید
ورنہ تجھے پڑنے ہی نہ دوں اپنی بھنک میں
سید فضل گیلانی
No comments:
Post a Comment