Thursday, 12 November 2020

ایسا ہو کہ ٹھہروں تیری پائل کی چھنک میں

 ایسا ہو کہ ٹھہروں تیری پائل کی چھنک میں

سنتا رہوں تیرے لہجے کی کھنک میں

گل رنگ کنول، پھول، شفق، چاند، گھٹا تُو

شب رنگ تیری زلف، لگن، ابر، دھنک میں

اک رنگ، کئی رنگ، بہر رنگ عیاں تُو

اک جوگ، کئی روگ، غزل، تال، کتھک میں

اے عشق، ارے عشق! ادھر دیکھ، یہ سر دیکھ

اے آگ، اری آگ! تیری چاہوں لپک میں

کیا عرض کروں دل سے ہی مجبور ہوں سید

ورنہ تجھے پڑنے ہی نہ دوں اپنی بھنک میں


سید فضل گیلانی

No comments:

Post a Comment