Thursday, 12 November 2020

مفت کے سنسنی فروش ہیں ہم

 مفت کے سنسنی فروش ہیں ہم


بیٹھے رہتے ہیں تاک میں کہ کوئی

آفت آئے اور اس کی آڑ میں ہم

اپنی اپنی دُکانِ لب کھولیں

ہاتھ میں لے کے رابطے کی مشین

خوف پھیلائیں ایک دوسرے میں

جو بھی پیغام ہو وصول اس کو

آگے دس بیس کو روانہ کریں

دن معیّن کریں قیامت کا

سب سے پہلے خبر دیں، رب نے کب

اس زمیں کی بساط الٹنی ہے

فارورڈ کے بٹن کے شیدائی

اپنی تخریب کے تماشائی

مفت کے سنسنی فروش ہیں ہم


اظہر فراغ

No comments:

Post a Comment