مفت کے سنسنی فروش ہیں ہم
بیٹھے رہتے ہیں تاک میں کہ کوئی
آفت آئے اور اس کی آڑ میں ہم
اپنی اپنی دُکانِ لب کھولیں
ہاتھ میں لے کے رابطے کی مشین
خوف پھیلائیں ایک دوسرے میں
جو بھی پیغام ہو وصول اس کو
آگے دس بیس کو روانہ کریں
دن معیّن کریں قیامت کا
سب سے پہلے خبر دیں، رب نے کب
اس زمیں کی بساط الٹنی ہے
فارورڈ کے بٹن کے شیدائی
اپنی تخریب کے تماشائی
مفت کے سنسنی فروش ہیں ہم
اظہر فراغ
No comments:
Post a Comment