Friday, 20 November 2020

چاند اوجھل ہو گیا ہر اک ستارا بجھ گیا

 چاند اوجھل ہو گیا ہر اک ستارا بجھ گیا

آندھیاں ایسی چلیں پھر دل ہمارا بجھ گیا

اب تو ہم ہیں اور سمندر اور ہوائیں اور رات

دور سے کرتا تھا جھلمل اک کنارا بجھ گیا

گھورتے ہیں لوگ بیٹھے کیا خلاؤں میں کہ اب

ہر اشارہ بجھ گیا ہے، ہر سہارا بجھ گیا

ہر نظر کے سامنے اب بے کراں پہلی سی ریت

جگمگاتا، بات کرتا دشت سارا بجھ گیا

جم گئی ہے برف کیسی ہر طرف لوگو یہاں

راکھ تک ٹھنڈی پڑی کیا کیا شرارا بجھ گیا

شہر چپ ہیں راستے خاموش ہیں چہرے اداس

بس بگولے اڑ رہے ہیں، ہر نظارا بجھ گیا


احمد ہمدانی

No comments:

Post a Comment