Wednesday, 18 November 2020

جور و ستم کی اس کے سیاہی چھپی رہے

 جور و ستم کی اس کے سیاہی چھپی رہے

ظالم کا بس چلے تو سدا رات ہی رہے

چاہی تھی زندگی کے لیے کوئی آرزو

اب آرزو یہی ہے کہ بس زندگی رہے

اب چاہے دربدر ہی پھریں ہم تمام عمر

کافی ہے یہ کہ دل میں تمہارے کبھی رہے

یہ اور بات ہے کہ ہمِیں کو سزا ملی

گرچہ شریکِ جرمِ تمنا سبھی رہے


باصر کاظمی

No comments:

Post a Comment