Friday, 11 December 2020

اکثر رات گئے تک میں چوکھٹ پر بیٹھا رہتا ہوں

 اکثر رات گئے تک میں چوکھٹ پر بیٹھا رہتا ہوں

سگریٹ پیتا، چاند کو تکتا، من میں بکتا رہتا ہوں

ریک پہ رکھ کر بھول گیا تھا اسکے چہرے ایسی کتاب

ہاتھ میں جب آ جاتی ہے تو پہروں پڑھتا رہتا ہوں

مرمر کا پتھر بن جاتی ہے جب پورے چاند کی رات

اپنی نظروں کی چھینی سے مورتیں گھڑتا رہتا ہوں

آخری شو سے لوٹنے والے بھی غائب ہو جاتے ہیں

میں جانے کن تصویروں میں کب تک کھویا رہتا ہوں


عمیق حنفی

No comments:

Post a Comment