Friday, 11 December 2020

دل و نظر پہ کوئی اختیار بھی تو نہیں

 دل و نظر پہ کوئی اختیار بھی تو نہیں

یہ شُتر ایسے مگر بے مہار بھی تو نہیں

منا ہی لیتے اسے ہم کڑی ریاضت سے

وہ زود رنج کہ پروردگار بھی تو نہیں

نہ جانے کیوں ہمیں شرمندگی ہے ماضی پر

اگرچہ ایسا کوئی داغدار بھی تو نہیں

یہ کیفیت کہ کوئی سرخوشی نہیں لیکن

تری جدائی طبیعت پہ بار بھی تو نہیں

حسابِ سود و زیاں کس طرح سے ممکن ہو

حضور عشق کوئی کاروبار بھی تو نہیں

تعلقات میں کیسے کوئی تناسب ہو

کوئئ حلیم، کوئی بردبار بھی تو نہیں

کہاں پڑاؤ کریں، کس کے آسرے پہ کریں

کہ دور تک شجرِ سایہ دار بھی تو نہیں

مقامِ فیض ملا اور نہ ہم ہوئے منصور

ہماری منزلِ مقصود دار بھی تو نہیں

گنہ، ثواب، شہید و یزید چہ معنی؟

یہ قتل گاہ کوئی کارزار بھی تو نہیں


شہزاد واثق

No comments:

Post a Comment