گھاٹ کے پاس سے گزرے گی ذرا دھیان رہے
فالتو بات نہ کرنا کہ میرا مان رہے
گھر سے نکلا ہوں دعا کوئی نہیں ساتھ مرے
کیسے ممکن ہے کہ اب راستہ آسان رہے
میں نے چاہا تھا کہ آنگن میں مرے پھول کھلیں
میں نے چاہا تھا مرے پاس تُو مہمان رہے
اس طرح بول ترا لہجہ مجھے یاد رہے
اس طرح ملنا کہ ملنے کا بھی امکان رہے
آرب ہاشمی
No comments:
Post a Comment