Friday, 11 December 2020

گھاٹ کے پاس سے گزرے گی ذرا دھیان رہے

 گھاٹ کے پاس سے گزرے گی ذرا دھیان رہے

فالتو بات نہ کرنا کہ میرا مان رہے

گھر سے نکلا ہوں دعا کوئی نہیں ساتھ مرے

کیسے ممکن ہے کہ اب راستہ آسان رہے

میں نے چاہا تھا کہ آنگن میں مرے پھول کھلیں

میں نے چاہا تھا مرے پاس تُو مہمان رہے

اس طرح بول ترا لہجہ مجھے یاد رہے

اس طرح ملنا کہ ملنے کا بھی امکان رہے


آرب ہاشمی

No comments:

Post a Comment