Friday, 11 December 2020

صداؤں کا نہ خلا دیکھ کر ڈرا مجھ کو

 صداؤں کا نہ خلا دیکھ کر ڈرا مجھ کو

ہے کوئی اور بھی سننے تو دے ذرا مجھ کو

قریب اپنے جو آیا تو لڑکھڑا سا گیا

تو میری فکر نہ کر کچھ نہیں ہوا مجھ کو

میں برف بیچنے نکلا بھی تو ہمالے میں

اور اس کے بعد زمانے سے ہے گلہ مجھ کو

یہ کیسے درد ہیں جو رہ گئے ہیں بٹنے سے

یہ کیسی گونج ہے کچھ بھی نہیں ملا مجھ کو

میں دیکھ کر تجھے اک سمت ہو سا جاتا ہوں

یہ ملتے ملتے پرے کیسے کر دیا مجھ کو

نہ تو بلائے مجھے اور نہ میں بلاؤں تجھے

یہ کیا ہوا ہے تجھے اور کیا ہوا مجھ کو

خلا میں راستے گرتے ہوں آبشار کی مثل

وہ دھوپ ہو نظر آئے نہ راستہ مجھ کو

یہ موج موج سی آواز کشتیوں کی سی چپ

قدم بنا ہوں اندھیروں کا اب بڑھا مجھ کو

میں چپ کی کھائی کا ہوتا اک اور پتھر آج

مری صدا ہی نے کس کر جکڑ لیا مجھ کو

میں خود کو ڈھال کے تیری صدا میں چاہتا ہوں

کہ تو بھی اب کبھی میری طرح بلا مجھ کو

میں کیا وہ خوف ہوں جو سب کے دل میں بیٹھا ہے

نہیں تو بت سے بنے دیکھتے ہو کیا مجھ کو

میں ایک شام ترے ساتھ رہ کے لٹ سا گیا

کہ زندگی میں یہ لہجہ نہیں ملا مجھ کو

پھر آج گھر مجھے لے آئی جوں کا توں اک بات

کہ جیسے کوئی کھڑا دیکھتا رہا مجھ کو

ادھر کنارے پہ بھی تلؔخ میں ہی تھا کل شام

بس اپنے خوف نے ملنے نہیں دیا مجھ کو


منموہن تلخ

No comments:

Post a Comment