کبھی اس پار ملنا تم
جہاں پر خواب بوڑھے ہوں، مگر تعبیر بنتی ہو
جہاں پر سات رنگوں سے مِری تصویر بنتی ہو
تمہاری زلف خم کھائے تو اس کو صرف میں دیکھوں
انہی خمدار زلفوں سے کوئی زنجیر بنتی ہو
وہاں پر ہاتھ باندھے مجھ کو آہ و زار ملنا تم
کبھی اس پار ملنا تم
جہاں صحرا کی سُوکھن ہاتھ ملتی ہو، نمی پھوٹے
تمہارے ہونٹ روشن ہوں کہ ہر دم بس ہنسی پھوٹے
حیا اور شرم جس کی خواب میں بھی دید نہ کی ہو
تمہارے سرخ آنچل سے حیا زادی، وہی پھوٹے
کسی ایسے جہاں میں لاغر و بیمار ملنا تم
کبھی اس پار ملنا تم
جہاں پر نہ ہی لوگوں کا نہ سوگوں کا تصور ہو
تمہارا جوگ ہو مجھ کو سو جوگوں کا تصور ہو
تمہارے سر کے صدقے وارنے کی بات ہو جب بھی
بلاؤں کے دماغوں میں بھی لوگوں کا تصور ہو
بھلے تم خوش بھی ہو لیکن مجھے بیزار ملنا تم
کبھی اس پار ملنا تم
جہاں پر مرشدِ عالی کا وہ فیضان ملتا ہو
کوئی مرجان مانگے تو اسے مرجان ملتا ہو
جہاں پر دکھ بڑے سکھ سے بہت ویران ہو جائیں
ہم ایسے بے کسوں کو بھی پیا سلطان ملتا ہو
مری جاں نیچ دنیا سے کبھی اس پار ملنا تم
کبھی اس پار ملنا تم
جہاں پر نسبتِ آلِ محمدﷺ کا بھرم ہو بس
زباں خاموش ہو گونگی مگر آوازِ نم ہو بس
جہاں اس خواہشِ بیمار سے لپٹا ہو میرا دل
لحد پہنچوں تو میرے ہاتھ میں اس کا علم ہو بس
یہ کوئی دوسری دنیا ہے بس سرکار ملنا تم
کبھی اس پار ملنا تم
اسامہ خالد
No comments:
Post a Comment