ایسا کر، پہلے تُو تقریر بدل
پھر خدا بن، مِری تقدیر بدل
تُو نے بدلی نہ اگر اپنی روِش
وقت نے لینی ہے شمشیر بدل
ملک ہے کھیل کا میدان نہیں
ذہن کے پردے پہ تصویر بدل
آ، مدینے کی ریاست بن جائیں
میری جاگیر سے جاگیر بدل
ہائے وہ خواب پرانا میرا
پر گئی خواب کی تعبیر بدل
رزق کی تار سے ہے تارِ نفس
اب رِہا کر مجھے نخچیر بدل
نہ مجھے صبر کی تاکید سے مار
رحم کر حربۂ تاخیر بدل
جب دعاؤں میں نہ دل شامل ہو
عرش پر جاتی ہے تاثیر بدل
ایک دن تُو بھی کہے گا مجھ سے
نالۂ شاعرِ دلگیر بدل
فرحت عباس شاہ
No comments:
Post a Comment