ریاست دے گی یا تُو آپ دے گا
مِرے بِل کیا تمہارا باپ دے گا؟
بڑا منصف ہے اگلا جج بھی یارو
کہا جاٸے گا جو وہ چھاپ دے گا
بجے گا جینیاتی ڈھول، جس پر
ہمارا دل کسی کی تھاپ دے گا
وہ پانی چھین لے گا شہریوں سے
اور اپنے انجنوں کو بھاپ دے گا
اذاں دے گا تِرے کانوں میں پیسہ
تُو بدلے میں کفن کا ماپ دے گا
بلف ہی کھیلتا آیا ہے فرحت
بنا پتوں کے اب بھی ٹھاپ دے گا
فرحت عباس شاہ
No comments:
Post a Comment