نیا ذائقہ ہے مزہ مختلف ہے
غزل چکھ کے دیکھ اس دفعہ مختلف ہے
سنو تم نے تو دنیا پھری ہے پرندو
یہ تنہائی کیا ہر جگہ مختلف ہے؟
صدا کام کیسے کرے گی یہاں
گلی تو وہی ہے گَلہ مختلف ہے
ہماری تمہاری سزا ایک کیوں نہیں؟
ہماری تمہاری خطا مختلف ہے؟
تم اب تک منافق دلوں میں رہی ہو
مرے دل کی آب و ہوا مختلف ہے
وہ روتے ہوئے ہنس پڑا اور بولا
خدا آدمی سے بڑا مختلف ہے
علی زریون
No comments:
Post a Comment