Friday, 4 December 2020

نیا ذائقہ ہے مزہ مختلف ہے

 نیا ذائقہ ہے مزہ مختلف ہے

غزل چکھ کے دیکھ اس دفعہ مختلف ہے

سنو تم نے تو دنیا پھری ہے پرندو

یہ تنہائی کیا ہر جگہ مختلف ہے؟

صدا کام کیسے کرے گی یہاں

گلی تو وہی ہے گَلہ مختلف ہے

ہماری تمہاری سزا ایک کیوں نہیں؟

ہماری تمہاری خطا مختلف ہے؟

تم اب تک منافق دلوں میں رہی ہو

مرے دل کی آب و ہوا مختلف ہے

وہ روتے ہوئے ہنس پڑا اور بولا

خدا آدمی سے بڑا مختلف ہے


علی زریون

No comments:

Post a Comment