اک مسلسل طنز ہے جیسے مرے کردار پر
یوں لگا رکھا ہے میں نے آئینہ دیوار پر
اب تو آوازوں کو بھی تصویر کر سکتی ہے آنکھ
اتنی کامل ہو گئی ہے دسترس اظہار پر
قیدِ تنہائی نے اتنا بے تعلق کر دیا
᚛بوجھ سا لگنے لگے ہیں اب تو یہ بیکار پر
میں بھی کچھ اس کی حدوں کے پار آ سکتا نہیں
اور وہ بھی گر نہیں سکتا مرے معیار پر
چار دیواروں کے اندر حبس کیا کم تھا کہ اب
خوف کی دیوار چڑھنے لگ گئی دیوار پر
روح تو بے مول ہی غافر یہاں پر بک گئی
ہاں ملے ہیں چند سکے جسم کے بیوپار پر
غافر شہزاد
No comments:
Post a Comment