Friday, 4 December 2020

اک مسلسل طنز ہے جیسے مرے کردار پر

 اک مسلسل طنز ہے جیسے مرے کردار پر

یوں لگا رکھا ہے میں نے آئینہ دیوار پر

اب تو آوازوں کو بھی تصویر کر سکتی ہے آنکھ

اتنی کامل ہو گئی ہے دسترس اظہار پر

قیدِ تنہائی نے اتنا بے تعلق کر دیا

᚛بوجھ سا لگنے لگے ہیں اب تو یہ بیکار پر

میں بھی کچھ اس کی حدوں کے پار آ سکتا نہیں

اور وہ بھی گر نہیں سکتا مرے معیار پر

چار دیواروں کے اندر حبس کیا کم تھا کہ اب

خوف کی دیوار چڑھنے لگ گئی دیوار پر

روح تو بے مول ہی غافر یہاں پر بک گئی

ہاں ملے ہیں چند سکے جسم کے بیوپار پر


غافر شہزاد

No comments:

Post a Comment