Friday, 11 December 2020

آنکھوں میں ایک دشت ہے کب سے رکا ہوا

 آنکھوں میں ایک دشت ہے کب سے رکا ہوا

پہلو میں اک چراغ ہے آدھا جلا ہوا

مدت سے میرے دل میں ہے کوئی بسا ہوا

محرم ہے میری ذات کا گرچہ چھپا ہوا

رکھا ہوا ہے چاند کی دہلیز پر قدم

رستہ ہے روشنی کا سمندر بنا ہوا

پہلی نظر میں عمر کا سودا ہوا تھا طے

سچ بات ہے کہ آنکھ کا وعدہ وفا ہوا

خوشبو کا راز کھول رہا ہے جہان پر

شعروں میں کوئی شخص ہے شاید چھپا ہوا

دشتِ فنا میں ڈھونڈ لیا اپنی ذات کو

میرا کہیں نہ ہونا ہی میری بقا ہوا

تتلی چمن میں آج بہت چپ لگی مجھے

جیسے کسی گلاب پہ ہو دل رکا ہوا

کہنے لگی ہوں شعر میں نیلم کے ساتھ ساتھ

شوقِ نوائے دشت مرا ہم نوا ہوا


نیلم بھٹی

No comments:

Post a Comment