رسمٍ الفت دراز کرنا کیا
ہاتھ پھر آبلوں پہ دھرنا کیا
بےخودی زندگی میں شامل ہو
دلٍ مدہوش پھر سنبھلنا کیا
نہ پڑے شوخئ نظر جس پر
ایسی پھر زلف کا سنورنا کیا
کہہ رہیں نیند میں ڈوبتی آنکھیں
خواب کچے گھڑوں میں بھرنا کیا
اس نے چھوڑا ہی کب ہمیں زندہ
یوں بھی جی کے تھا اور کرنا کیا
اے دسمبر! اداس راتوں میں
سرد لوگوں سے پیار کرنا کیا
تاشفین فاروقی
No comments:
Post a Comment