Wednesday, 16 December 2020

جیسے کوئی روتا ہے گلے پیار سے لگ کر

 جیسے کوئی روتا ہے گلے پیار سے لگ کر

کل رات میں رویا تری دیوار سے لگ کر

ہر ایک کے چہرے پہ ہے تشویش نمایاں

بیٹھے ہیں مسیحا ترے بیمار سے لگ کر

پھولوں کی محبت نے سبق مجھ کو سکھایا

زخمی جو ہوئے ہاتھ مرے خار سے لگ کر

غمازئ خوشبو پہ کھلا راز چمن میں

گزری ہے صبا گیسوئے دلدار سے لگ کر

جب جب دل وحشی کو ترے غم نے ستایا

ہم بیٹھ گئے زانوئے غمخوار سے لگ کر

سمجھا اسے پھولوں کی نوازش دل سادہ

جو زخم لگا نوک سر خار سے لگ کر

اعجاز کوئی شوق نہیں سیر جہاں کا

آرام سے بیٹھے ہیں در یار سے لگ کر


عزيز اعجاز

No comments:

Post a Comment