جب مِرا بھائی مِری بانہوں میں بانہیں ڈالے
ساتھ چلتا تو یہ لگتا کہ مدارِ ہستی
جوہرِ قوسِ قزح رکھتا ہے
جب مِرا باپ مِرے فردا پہ باتیں کرتا
مِرے بیمار ارادوں کو شفا ملتی تھی
دل کسی مہکی ہوئی صبح کے چوراہے پر
اپنی معمول کی رفتار سے ہٹ جاتا تھا
ماں مجھے کہتی، مِرے بیٹے تجھے گرم ہوائیں نہ لگیں
تِرے سینے پہ اجالوں کی قطاریں اتریں
میں سمجھتا تھا اسی خواب کے چھتنار تلے
زندگی چین سے کٹ جائے گی
میں سمجھتا تھا یہ کارِ دنیا
بے سبب خوف کا پھیلاؤ ہے
اور اب روز کوئی تازہ خلش تازہ کہانی آ کر
مِرے جلتے ہوئے سینے پہ علم ہوتی ہے
شیٹ کے پلڑوں میں اعداد کے اوزان برابر کر کے
کیش کے حبس میں ہر شام قلم ہوتی ہے
اور میں دیکھتا رہتا ہوں
زمینوں میں، زمانوں میں، فلک، حدِ فلک سے آگے
ایک امکان جسے آخری دن سے پہلے
دشتِ احساس کے پہلو سے عیاں ہونا ہے
ایک امکان جسے تیرا ہدف، میرا نشاں ہونا ہے
فرخ یار
No comments:
Post a Comment