تجھے بھول جاؤں یہ طاقت نہیں ہے
سوا تیری چاہت کے چاہت نہیں ہے
جدائی مجھے مار ڈالے گی اک دن
رہوں دور تجھ سے یہ ہمت نہیں ہے
ملے موت پہلے اگر وصل سے تو
کبھی سوچنا مت محبت نہیں ہے
کوئی کاش قانون بن جائے ایسا
محبت ہے چاہت ہے فرقت نہیں ہے
ستم دنیا کے سہہ کے خاموش ہوں میں
مجھے دل دکھانے کی عادت نہیں ہے
بنا عشق کے کب مزہ دے عبادت
محبت میں کوئی شراکت نہیں ہے
ازل سے زمانہ محبت کا کا دشمن
نہ مانے یہ دل اب عداوت نہیں ہے
سیما غزل
No comments:
Post a Comment