Sunday, 13 December 2020

تجھے بھول جاؤں یہ طاقت نہیں ہے

 تجھے بھول جاؤں یہ طاقت نہیں ہے

سوا تیری چاہت کے چاہت نہیں ہے

جدائی مجھے مار ڈالے گی اک دن

رہوں دور تجھ سے یہ ہمت نہیں ہے

ملے موت پہلے اگر وصل سے تو

کبھی سوچنا مت محبت نہیں ہے

کوئی کاش قانون بن جائے ایسا

محبت ہے چاہت ہے فرقت نہیں ہے

ستم دنیا کے سہہ کے خاموش ہوں میں

مجھے دل دکھانے کی عادت نہیں ہے

بنا عشق کے کب مزہ دے عبادت

محبت میں کوئی شراکت نہیں ہے

ازل سے زمانہ محبت کا کا دشمن

نہ مانے یہ دل اب عداوت نہیں ہے


سیما غزل

No comments:

Post a Comment