Friday, 11 December 2020

اتنے آسودہ کنارے نہیں اچھے لگتے

 اتنے آسودہ کنارے نہیں اچھے لگتے

ایک ہی جیسے نظارے نہیں اچھے لگتے

اتنی بے ربط کہانی نہیں اچھی لگتی

اور واضح بھی اشارے نہیں اچھے لگتے

ذرا دھیمی ہو تو خوشبو بھی بھلی لگتی ہے

آنکھ کو رنگ بھی سارے نہیں اچھے لگتے

پاس آ جائیں تو بے نوری مقدر ٹھہرے

دور بھی اتنے ستارے نہیں اچھے لگتے

اپنی گمنامی کے صحراؤں میں خوش رہتی ہوں

اب مجھے شہر تمہارے نہیں اچھے لگتے


یاسمین حمید

No comments:

Post a Comment