ضد نہیں کیجئے
زندگی کی دعائیں نہیں دیجئے
ضد نہیں کیجئے
اپنی تشنہ لبی کا تقاضہ تھا یہ
پانیوں کے سفر پر چلیں جس گھڑی
ساحلوں پر کوئی بھی ہمارا نہ ہو
اجنبی دیس کی ملگجی شام کے آسمانوں پہ کوئی ستارہ نہ ہو
کشتئ عمر کو بادبانوں کا کوئی سہارا نہ ہو
حلقۂ موج میں کوئی آواز جو آ کے پیچھا کرے
مُڑ کے تکنا بھی ہم کو گوارا نہ ہو
اِس سمندر کا کوئی کنارہ نہ ہو
اب ہمارا تعاقب نہیں کیجئے
ڈوبنے دیجئے
ضد نہیں کیجئے
شاہین مفتی
No comments:
Post a Comment