Friday, 11 December 2020

ڈوبنے دیجئے ضد نہیں کیجئے

 ضد نہیں کیجئے


زندگی کی دعائیں نہیں دیجئے

ضد نہیں کیجئے

اپنی تشنہ لبی کا تقاضہ تھا یہ

پانیوں کے سفر پر چلیں جس گھڑی

ساحلوں پر کوئی بھی ہمارا نہ ہو

اجنبی دیس کی ملگجی شام کے آسمانوں پہ کوئی ستارہ نہ ہو

کشتئ عمر کو بادبانوں کا کوئی سہارا نہ ہو

حلقۂ موج میں کوئی آواز جو آ کے پیچھا کرے

مُڑ کے تکنا بھی ہم کو گوارا نہ ہو

اِس سمندر کا کوئی کنارہ نہ ہو

اب ہمارا تعاقب نہیں کیجئے

ڈوبنے دیجئے

ضد نہیں کیجئے


شاہین مفتی

No comments:

Post a Comment