Friday, 11 December 2020

یہ داغ مستقل ہے

 میں زیادہ دُکھی نہیں ہوں


میں نے دیکھا

نم کی کمی

اور جوان ہونے کی بے چینی میں مبتلا

ننھے پودے کا غم

جو مجھ سے زیادہ دکھی تھا

ایک غم نے میری بساط پہ جگہ بنا لی

میں نے دیکھے

غیر یقینی کے پرندے ہمہ وقت

تمہارے کاندھوں پہ بیٹھے ہوئے

تمہارے چہرے پہ

پھڑپھڑاتے ہوئے گمان کو

اور یقین کو پچھلے دروازے سے

باہر جھانکتے ہوئے

میں سہم گیا یہ دیکھ کر

ایک غم سرکتے ہوئے

میرے قریب آ گیا

میں نے تمہارے آنسوؤں کے ذائقے کو یاد کیا

برف پہ بکھرے نمک پہ

ننگے پاؤں چلتے ہوئے

تو میرا دکھ فٹ پاتھ کی برف پہ

دراز ہو گیا

میں اس مرتبہ

زیادہ دکھی ہونے سے بچ گیا

میں دکھی ہو گیا

اس پھول کو دیکھ کر

جو باغ کے آخری کونے میں کھلا

اور جس پہ کسی کا دھیان ہی نہیں گیا

آخر آج صبح احتجاجاً اس نے

اپنی پتیاں گرا دیں

مگر میں زیادہ دکھی نہیں ہوا

قلم پکڑنے والے ہاتھوں میں

لرزش دیکھ کر

سوائے اس وقت کے

جب میرے قرطاسِ دل پہ

یقین کی انمِٹ سرخی سےلکھ دیا گیا

“یہ داغ مستقل ہے”

اور فائل ہمیشہ کے لیے بند کر دی گئی


ثاقب ندیم

No comments:

Post a Comment