یوں تو کہنے کو چار ہوتے ہیں
چار دن بے شمار ہوتے ہیں
تم تو یوں ہی ہوئے ہو افسردہ
آئینے داغدار ہوتے ہیں⌗
پہلے خوش تھے ہماری صحبت میں
اب بہت بے قرار ہوتے ہیں
میں ذرا عاجزی میں رہتا ہوں
لوگ سر پر سوار ہوتے ہیں
تیری اس دشمنی کے رشتے سے
ہم ترے رشتہ دار ہوتے ہیں
یاروں سے اب گلہ ہی کیا اسود
یار جیسے ہوں یار ہوتے ہیں
فیاض اسود
No comments:
Post a Comment