Friday, 11 December 2020

یوں تو کہنے کو چار ہوتے ہیں

یوں تو کہنے کو چار ہوتے ہیں

چار دن بے شمار ہوتے ہیں

تم تو یوں ہی ہوئے ہو افسردہ

آئینے داغدار ہوتے ہیں⌗

پہلے خوش تھے ہماری صحبت میں

اب بہت بے قرار ہوتے ہیں

میں ذرا عاجزی میں رہتا ہوں

لوگ سر پر سوار ہوتے ہیں

تیری اس دشمنی کے رشتے سے

ہم ترے رشتہ دار ہوتے ہیں

یاروں سے اب گلہ ہی کیا اسود

یار جیسے ہوں یار ہوتے ہیں


فیاض اسود

No comments:

Post a Comment