کل تو ویسے بھی کوچ کرنا ہے
آج اک دوسرے کی بانہوں میں
شب گزاری کا کچھ سبب کر لیں
کل تو ویسے بھی کوچ کرنا ہے
بے خیالی کے زرد خاکوں میں
رنگ کچھ خواہشات کا بھر لیں
کل تو ویسے بھی کوچ کرنا ہے
دو گھڑی بیٹھ زندگی میری
تجھ کو آرام سے بسر کر لیں
کل تو ویسے بھی کوچ کرنا ہے
آ، مری دسترس کی حد میں آ
وصل کا معرکہ بھی سر کر لیں
کل تو ویسے بھی کوچ کرنا ہے
بوجھ ڈھوئیں گے کب تلک اپنا
میری زانوں پہ اپنا سر دھر لیں
کل تو ویسے بھی کوچ کرنا ہے
بشریٰ شاہ
بشریٰ شہزادی
No comments:
Post a Comment