Thursday, 10 December 2020

کل تو ویسے بھی کوچ کرنا ہے

 کل تو ویسے بھی کوچ کرنا ہے


آج اک دوسرے کی بانہوں میں

شب گزاری کا کچھ سبب کر لیں

کل تو ویسے بھی کوچ کرنا ہے


بے خیالی کے زرد خاکوں میں

رنگ کچھ خواہشات کا بھر لیں

کل تو ویسے بھی کوچ کرنا ہے


دو گھڑی بیٹھ زندگی میری

تجھ کو آرام سے بسر کر لیں

کل تو ویسے بھی کوچ کرنا ہے


آ، مری دسترس کی حد میں آ

وصل کا معرکہ بھی سر کر لیں

کل تو ویسے بھی کوچ کرنا ہے


بوجھ ڈھوئیں گے کب تلک اپنا

میری زانوں پہ اپنا سر دھر لیں

کل تو ویسے بھی کوچ کرنا ہے


بشریٰ شاہ

بشریٰ شہزادی

No comments:

Post a Comment