دل کی رفتار میں پہلی بار
ایک دم سے بہت تیزی محسوس ہوئی
وقت نے جیسے میرے حق میں سارے فیصلے کر دیئے تھے
بالوں اور گالوں کی آپس میں بحث جاری ہو گئی تھی
دونوں کو ہی خود پر ناز سا ہونے لگا تھا
دونوں کی پذیرائی اس نے خود اپنے ہاتھوں سے کی تھی
اور آنکھیں تو اس منظر سے ایسے شرما رہی تھیں
جیسے کچھ بول پڑی تو محبت کا الزام لگ جائے گا
اور ہونٹ آنکھوں کی اس معصومیت پر
کچھ کہنے اور نہ کہنے کی پیاری سی کوشش میں تھے
ہاتھوں کی انگلیوں کا رابطہ اپنے ہی ہاتھ کی گرفت میں تھا
اور وہ آواز جسے جادو کرنے کا ہنر حاصل تھا
قوت گویائی سے جیسے محروم ہو گئی ہو
تب اس کی آواز نے میرے کانوں کو پہلی بار
محبت کی معراج سنائی یہ کہہ کر؛ جانتی ہو تم کیسی ہو
کسی گاؤں میں سنائی دینے والی مغرب کی اذان جیسی
میں نے وہ لفظ اپنی روح میں اترتے محسوس کئے
اور اس کی محبت کے سامنے سر جھکا دیا
راحیلہ بیگ چغتائی
No comments:
Post a Comment