Thursday, 10 December 2020

اور اس کی محبت کے سامنے سر جھکا دیا

 دل کی رفتار میں پہلی بار

ایک دم سے بہت تیزی محسوس ہوئی

وقت نے جیسے میرے حق میں سارے فیصلے کر دیئے تھے

بالوں اور گالوں کی آپس میں بحث جاری ہو گئی تھی

دونوں کو ہی خود پر ناز سا ہونے لگا تھا

دونوں کی پذیرائی اس نے خود اپنے ہاتھوں سے کی تھی

اور آنکھیں تو اس منظر سے ایسے شرما رہی تھیں

جیسے کچھ بول پڑی تو محبت کا الزام لگ جائے گا

اور ہونٹ آنکھوں کی اس معصومیت پر

کچھ کہنے اور نہ کہنے کی پیاری سی کوشش میں تھے

ہاتھوں کی انگلیوں کا رابطہ اپنے ہی ہاتھ کی گرفت میں تھا

اور وہ آواز جسے جادو کرنے کا ہنر حاصل تھا

قوت گویائی سے جیسے محروم ہو گئی ہو

تب اس کی آواز نے میرے کانوں کو پہلی بار

محبت کی معراج سنائی یہ کہہ کر؛ جانتی ہو تم کیسی ہو

کسی گاؤں میں سنائی دینے والی مغرب کی اذان جیسی

میں نے وہ لفظ اپنی روح میں اترتے محسوس کئے

اور اس کی محبت کے سامنے سر جھکا دیا


راحیلہ بیگ چغتائی

No comments:

Post a Comment