Sunday, 7 February 2021

سایۂ عجز کبھی پرتو پندار کبھی

 سایۂ عجز کبھی پرتوِ پندار کبھی

ہو نہ جاؤں میں کہیں خود سے ہی بیزار کبھی

اس قدر جنسِ گراں ہے تِرے بازار میں عشق

بھول کر بھی نہیں آئیں گے خریدار کبھی

جو بہت حبس زدہ سے نظر آتے ہیں تمہیں

یہی کوچے ہوا کرتے تھے ہوا دار کبھی

اس طرف اور بھی شہرت ہے مِرے ہونے کی

توڑ کر دیکھ لوں میں ذات کی دیوار کبھی

کیا معمہ ہے کہ کھلتی نہیں ہستی میری

کبھی معصوم بہت اور بہت عیار کبھی


تصنیف حیدر

No comments:

Post a Comment