Sunday, 7 February 2021

تم انتظار کے لمحے شمار مت کرنا

 تم انتظار کے لمحے شمار مت کرنا

دِیے جلائے نہ رکھنا سنگار مت کرنا

مِری زبان کے موسم بدلتے رہتے ہیں

میں آدمی ہوں مِرا اعتبار مت کرنا

کرن سے بھی ہے زیادہ ذرا مِری رفتار

نہیں ہے آنکھ سے ممکن شکار مت کرنا

تمہیں خبر ہے کہ طاقت مِرا وسیلہ ہے

تم اپنے آپ کو بے اختیار مت کرنا

تمہارے ساتھ مِرے مختلف مراسم ہیں

مِری وفا پہ کبھی انحصار مت کرنا

تمہیں بتاؤں یہ دنیا غرض کی دنیا ہے

خلوص دل میں اگر ہے تو پیار مت کرنا

ملیں گے راہ میں عاصم کو ہمسفر کئی اور

وہ آ رہا ہے مگر انتظار مت کرنا


صباحت عاصم واسطی

No comments:

Post a Comment