Monday, 1 February 2021

کسے فرصت مہ و سال ہے یہ سوال ہے

 کسے فرصت مہ و سال ہے یہ سوال ہے

کوئی وقت ہے بھی کہ جال ہے یہ سوال ہے

نہ ہے فکر گردشِ آسماں،۔ نہ خیالِ جاں

مجھے پھر یہ کیسا ملال ہے، یہ سوال ہے

وہ سوال جس کا جواب ہے میری زندگی

میری زندگی کا سوال ہے، یہ سوال ہے

میں بچھڑ کے تجھ سے بلندیوں پہ جو پست ہوں

یہ عروج ہے کہ زوال ہے،۔ یہ سوال ہے


عباس قمر

4 comments:

  1. کسے فرصت حساب ھے، یہ جواب ھے
    قید وقت رکاب ھے، یہ جواب ھے

    فکر گردش آسماں کیوں؟ خیال جان آرزو
    یہی زندگی کی کتاب ھے، یہ جواب ھے

    زندگی کے سوال کا ھو کیا جواب؟
    یہ سوال لاجواب ھے، یہ جواب ھے

    بنا رضائے یار کے بلندیوں کی خواھشیں
    وہ شخص ناکامیاب ھے، یہ جواب ھے

    منشائے ایزدی پر سر جھکا ابصار
    یہی نغمہ و رباب ھے، یہ جواب ھے

    ReplyDelete
    Replies
    1. السلام علیکم راجہ ابصار، اگر آپ شاعر ہیں اور اپنی شاعری ہمارے بلاگ پر شائع کروانا چاہتے ہیں تو مجھے اپنا کلام ای میل کر سکتے ہیں۔

      Delete
    2. محترم ساغر صاحب!
      پیشکش کا شکریہ۔ کچھ عرصہ سے ھی شاعری شروع کی ھے۔ اپنا ای میل ایڈریس دے دیں، آپ کو اپنی شاعری بھجوا دوں گا۔

      Delete
  2. https://www.blogger.com/profile/16745734027374713681
    Profile page pe Contact me => email pe click kijiye

    ReplyDelete