جب شام ڈھلے کوئی یاد آئے
تو میں گھر کے اندھیرے کونے میں
جا چھپتی ہوں
اور بھولی بسری یادوں کے
کچھ دیپ جلانے لگتی ہوں
ایسے میں بڑی خاموشی سے
وہ سارے دیپ بجھاتا ہے
پھر چپکے چپکے اس دل میں
اک نئی امید جگاتا ہے
میں کتنا چاہوں پھر بھی وہ
میری آنکھوں کو
نئے خواب دکھلاتا ہے
اور پھر اتنی ہی خاموشی سے
خوابوں میں کھو جاتا ہےاور میں پگلی پھر سے۔۔۔۔
سعدیہ سبحانی
No comments:
Post a Comment